Dunia - A Picture




دنیا کے خوابوں میں چھپی خوابوں کی دنیا
دُنیا میں بسے لوگ اور ان میں بسی باتیں

باتوں میں کہانیاں کہانیوں میں کچھ راز
کچھ لبوں پہ رکی ہوئی کچھ آنکھوں کی آواز

سینے میں ہیں ویرانے اور درد کے ہیں ڈیرے
اپنوں کی محفل میں ہم پھر بھی اکیلے

مٹی کے یہ پتلے ہیں مٹی میں ہی جانا
فانی ہے یہ ہستی فانی ہے زمانہ

یہ لوگ جو چلتے ہیں یہ ہے صرف دکھاوہ
اصل میں تو ہر شخص یادوں کا ہے بلاوا

کیوں ڈھونڈتا ہے باہر تُو جینے کا سہارا
سجدوں میں جو گر جائے مل جائے کنارا

کہیں شور ہے لفظوں کا کہیں خاموش صدائیں
بس یوں ہی گزر جاتی ہیں جینے کی تمنائیں

آخر میں نہ لوگ، نہ دنیا، نہ رنگ، نہ یہ راتیں
رہ جائیں گی ہواؤں میں بس ان کی وہی باتیں

دنیا کے خوابوں میں چھپی خوابوں کی دنیا
دُنیا میں بسے لوگ اور ان میں بسی باتیں

Published: 2/2/2026